منگلورو8/جنوری (ایس او نیوز) مرکزی حکومت کے نوٹ بندی اور دیگر عوام دشمن اقدامات کے خلاف جنوبی کینر اضلع کانگریس کی طرف سے ڈی سی دفتر کے روبرو 7جنوری کو احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
اس موقع پر احتجاجی مظاہرے کے نگراں وشنو پرساد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندی کے تعلق سے وزیر اعظم نریندرمودی کا اقدام غیر آئینی ہے۔ آر بی آئی، اپوزیشن اور دیگر پارٹیوں کے ساتھ گفت و شنید کیے بغیر نوٹ بندی کا فیصلہ کیاگیا ہے۔اس طرح غریبوں کو مشکل میں ڈالنے اور آدانی جیسے سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے کا کام کیا گیا ہے۔اس سے ہٹ کر یہ دیش کے مفاد میں کیا گیا اقدام ہرگز نہیں ہے۔وزیر جنگلات اور ضلع انچارج مسٹر رماناتھ رائے نے کہا کہ غریبوں کو خوشحال بنانے کا وعدہ کرنے والوں نے غریبوں کو راستے پر لا کھڑا کیا ہے۔نئے نوٹوں کے لئے 1.40لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ 97%پرانے نوٹ بینکوں میں جمع کیے گئے ہیں۔ تو پھرسوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کالا دھن کہاں چلا گیا؟انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی صرف جھوٹ بولتے ہوئے دن گزار رہی ہے۔ ایم پی پرتاپ سنگھ جیسے لوگ جھوٹ بول کر لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں۔عوام کی طرف سے بی جے پی کو سبق سکھانا ضروری ہے۔اس کے لئے سرمایہ داروں کے مفادات پورا کرنے والی مودی سرکار کو اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔
وزیر غذا یو ٹی قادر نے اس موقع پر کہا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے جب عوام بینکوں کے سامنے قطاروں میں جان کھپارہے تھے،تب وزیر اعظم مودی جاپان میں بانسری بجا رہے تھے۔یہ تو بالکل ویسا ہی تھا جب روم جلتے وقت وہاں کا بادشاہ نیرو کیا کرتاتھا۔
ایم ایل اے لوبو، ابھئے چندرا جین، محی الدین باوا، ماضی ایم ایل اے وجئے کمار شیٹی وغیرہ نے بھی مظاہرے کے دوران خطاب کیا۔اس موقع پر کانگریسی لیڈران اور کارکن بڑی تعداد میں موجودتھے۔